قرآن کا تصورِ علم اور حقیقی علماء کی پہچان
۱۔ کائناتی علوم اور علماء کا حقیقی تعارف
قرآنِ مجید میں جہاں اللہ تعالیٰ نے "علماء" کی سب سے بڑی صفت بیان کی ہے، اس کا سیاق و سباق (Context) مکمل طور پر سائنسی ہے۔ سورہ فاطر (آیات ۲۷-۲۸) میں اللہ فرماتا ہے:
"کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ذریعے مختلف رنگوں کے پھل نکالے؟ اور پہاڑوں میں بھی سفید، سرخ اور گہرے سیاہ رنگ کے راستے (تہیں) ہیں۔ اور اسی طرح انسانوں، جانداروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہیں۔ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم والے (الْعُلَمَاءُ) ہی اس سے خشیت (شعوری احترام) رکھتے ہیں"
غور کیجیے! اللہ تعالیٰ یہاں اپنی نشانیاں بوٹنی (پودوں کا علم)، جیولوجی (پہاڑوں کی ساخت)، اور بائیولوجی (انسانوں اور جانوروں کا حیاتیاتی تنوع) کے اندر ظاہر کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے اور اس کے فوراً بعد فرماتا ہے کہ ان حقائق کو سمجھ کر اللہ کی عظمت کا اعتراف صرف "علماء" ہی کر سکتے ہیں۔
عربی لغت کے مادے (ع - ل - م) کی روشنی میں علماء وہ نہیں ہیں جو نمازوں میں ہاتھ باندھنے یا چھوڑنے جیسے فروعی مسائل پر جھگڑیں، فتوے بازی کریں یا دوسروں کے ایمان کی کھوج لگانے میں وقت برباد کریں (جس کی دین میں ممانعت ہے)۔ بلکہ سچے علماء وہ ہیں جو اللہ کے آسمانوں سے نازل ہونے والے مادی قوانین، ان کی حکمتوں، ان کے نتائج کے اختلافات اور اس تنوع کے پیچھے چھپی خوبصورتی اور انسانی فوائد پر غور کرنے والے ہیں۔
۲۔ مکڑی کے گھر کی مثال اور فروعی الجھنوں سے آزادی
قرآنِ پاک مادی حقائق کو بطورِ ماڈل (مثال) پیش کرتا ہے تاکہ انسانی عقل متحرک ہو۔ سورہ العنکبوت (آیت ۴۳) میں مکڑی (Spider) کے گھر کی بائیولوجیکل اور آرکیٹیکچرل مثال دینے کے بعد اللہ فرماتا ہے:
"وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۖ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ"
"اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں، اور انہیں صرف علم والے (الْعَالِمُونَ) ہی عقل کی کسوٹی پر پرکھتے (ڈی کوڈ کرتے) ہیں۔"
عربی میں "عقل" (مادہ: ع - ق - ل) کا مطلب ہے بکھرے ہوئے مادی حقائق کے دھاگوں کو آپس میں جوڑ کر ایک محکم اور منطقی نتیجہ نکالنا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور توحید کو مٹی کے گھروں اور چھوٹی سوچ کی الجھنوں سے تشبیہ دے کر اس عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اللہ کا ایک ہونا تو اتنی بدیہی (Understood) بات ہے کہ اس پر جھگڑنا معمولی اور کم درجے کے علم والوں کا کام ہے۔
اصل علم والے تو وہ ہیں جو اللہ کی کائنات کے اس مائیکرو نظام (جیسے مکڑی کا جالا اور اس کی بناوٹ) پر غور کرتے ہیں اور وہاں سے اللہ کی پہچان حاصل کرتے ہیں۔ ان چھوٹی سوچ والوں سے الجھنا سچے علماء کا کام نہیں ہے، بلکہ اللہ کی کائنات کی وسعتوں پر غور کرنا ان کا حقیقی میدان ہے۔ ان کا کام کائنات کے ان مادی قوانین سے ایسی ناقابلِ تردید دلیلیں تلاش کر کے دنیا کو دینا ہے جو بڑے بڑے علم کے دعویداروں (مادہ پرستوں اور ملحدین) کے یقین کو ہلا کر رکھ دیں، ان کی خود ساختہ مادی دلیلوں کا منہ موڑ دیں اور کائناتی ڈیزائن کو ثابت کر کے انہیں اللہ کی سچی معرفت تک پہنچا دیں۔
۳۔ جدید سائنس کا انکار اور قرآن کی مخفی خبریں
قرآن اپنے پڑھنے والوں کو مادی سائنس کے دائرے کے اندر سے دورِ حاضر کے علم والوں کو اللہ کی معرفت کی ایسی سچی خبریں دے رہا ہے جو عصرِ حاضر کے مادہ پرست سائنسدانوں کو لاجواب کر دیتی ہیں۔ جب جدید الحاد یہ دعویٰ کرتا ہے کہ سائنس نے خدا کی ضرورت ختم کر دی ہے، تو قرآن کا اسلوب انھیں انھی کی سوچ اور دلیل کے دائرے میں گھیر لیتا ہے۔
مثال کے طور پر، جب بیسویں صدی کے فلکیات دانوں نے یہ دریافت کیا کہ کائنات ایک عظیم دھماکے (Big Bang) سے شروع ہوئی اور یہ مسلسل پھیل رہی ہے، تو قرآنِ کریم نے چودہ سو سال پہلے ہی سورہ الانبیاء (آیت ۳۰) میں یہ خبر دے دی تھی کہ آسمان اور زمین پہلے آپس میں جڑے ہوئے تھے پھر ہم نے انہیں الگ کیا، اور سورہ الذاریات (آیت ۴۷) میں واضح فرمایا کہ ہم اس کائنات کو مسلسل پھیلاتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح جب کوانٹم فزکس نے ایٹم سے بھی چھوٹے ذرات (Subatomic Particles) کا سراغ لگایا، تو سورہ یونس (آیت ۶۱) نے پہلے ہی مطلع کر دیا تھا کہ اللہ کے علم سے ایک ذرہ بھی چھپا نہیں اور نہ اس ذرے سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی۔ یہ گہرے کائناتی حقائق اس بات کا ثبوت ہیں کہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں بلکہ کائنات کے خالق کا نازل کردہ علم ہے۔
اور یہی علماء کا حقیقی کام ہے کہ وہ فروعی جھگڑوں سے نکل کر کائنات کے اندر علم اور شعور کے ذریعے اللہ کی معرفت کے علم کو بلند کریں۔ حقیقی قرآنی تدبر یہ ہے کہ اللہ کے انکار کرنے والوں کی تنگ نظر سوچ کو علم و شعور کی وسعتوں، کائنات کی تسخیر اور اسے سمجھنے کے فہم و فراست سے 'تنگ نظر' ثابت کر دیا جائے۔ یہ مادہ پرست سائنسدان یہ سمجھنے پر مجبور ہو جائیں کہ ان کی مادی سوچ تو ایک مکڑی کے گھر جتنی حیثیت بھی نہیں رکھتی، اور وہ کتنا محدود اور تنگ نظری کی سطح پر اپنا وقت اور توانائیاں ضائع کر رہے تھے جبکہ کائنات کا سچا علم اور شعور کی پرواز انھیں اپنے خالق کی طرف بلا رہی تھی۔
اللہ تعالیٰ اپنی تمام صفات میں سے "علم والا ہونا" (العلیم) کو سب سے زیادہ ترجیح دیتا ہے اور اسی علم کی بنیاد پر اس نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر کائنات کی تسخیر کا حکم دیا ہے۔ تخلیقِ آدم کے وقت فرشتوں پر انسان کی برتری کسی روایتی بندگی یا تسبیح کی وجہ سے نہیں بلکہ "علمِ اشیاء" (ناموں اور مادی قوانین کے علم) کی بنیاد پر ثابت ہوئی تھی۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جس سائنسی اور کائناتی علم کو اللہ نے اپنی پہچان کا ذریعہ بتایا، ہمارے روایتی طبقے نے اسے "دنیا کا علم" کہہ کر مسلمانوں کو اس سے دور کر دیا اور امت کو فروعی بحثوں میں الجھا دیا۔ ہم اس محدود اور جمود کا شکار سوچ کو حقیقی دین کے وارثان کا فہم و فراست کیسے مان لیں؟ اگر ہمیں دوبارہ دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام پانا ہے اور سچی معرفتِ الٰہی تک پہنچنا ہے، تو ہمیں قرآن کے اسی آفاقی تصورِ علم کو اپنا کر کائنات کی وسعتوں کو مسخر کرنا ہوگا، جہاں سائنس اور دین الگ نہیں، بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں