نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

متصف

روح، سائنس اور حقیقتِ شعور: عقل و مادہ کا فکری موازنہ

مادی قوانین کی تشریح اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں سائنس نے حیرت انگیز ترقی کی ہے، لیکن جب بات انسانی وجود کے اصل جوہر یعنی "روح اور شعور" کی آتی ہے، تو سائنس کا مادی دائرہ کار عاجز نظر آتا ہے۔ موجودہ دور کا مادی انسان ہر اس حقیقت کو نظرانداز کرنے کی کوشش کرتا ہے جو لیبارٹری کے مادی پیمانوں پر پوری نہ اترے۔ حالانکہ خود انسانی وجود کے اندر ایک ایسا معمہ موجود ہے جس کا مادی ثبوت تو ممکن نہیں، مگر اس کے اثرات اور وجود سے انکار بھی ممکن نہیں۔ علمِ انسان کی محدودیت اور امرِ ربی قرآنِ کریم نے صدیوں پہلے انسانی علم کی اس حد اور روح کی حقیقت کو ایک مختصر مگر جامع آیت میں بیان فرما دیا تھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا" (سورہ بنی اسرائیل، 17:85) ترجمہ: "اور وہ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے، اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔" یہ آیت واضح کرتی ہے کہ روح مادی دنیا کی چیز نہیں بلکہ "امرِ ربی" ہے۔ سائنس چ...

تازہ ترین پوسٹس

قرآن کا تصورِ علم اور حقیقی علماء کی پہچان

شاہکارِ تخلیق اور شعورِ انسانی: تدبرِ قرآن کا ایک نیا زاویہ

ایک اللہ، ایک رسول، ایک کتاب... پھر اتنی تقسیم کیوں؟